بنگلورو، 31؍جولائی(ایس او نیوز)سابق وزیر اعلیٰ آنجہانی ایس بنگارپا کے چھوٹے فرزند مدھو بنگارپا نے جمعہ کے روز جنتا دل (ایس) چھوڑ کر باضابطہ کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ہبلی میں اے آئی سی سی جنرل سکریٹری رندیپ سرجے والا، سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا، کے پی سی سی صدر ڈی کے شیو کمار اور دیگر سرکردہ کانگریس قائدین کی موجود گی میں مدھو نے کانگریس کا پرچم تھام کر پارٹی میں شامل ہو نے کا اعلان کیا۔ہبلی کے گوکل گراؤنڈ میں منعقدہ پروگرام میں مدھو بنگارپا کا کانگریس قائدین نے پارٹی میں استقبال کیا۔ مدھو نے مارچ کے دوران ہی کانگریس میں شامل ہونے کا اعلان کردیا تھا لیکن کورونا وائرس سے پیدا شدہ بحران کے سبب ان کی شمولیت کے جلسہ کو موخر کردیا گیا تھا۔ مدھو بنگارپا نے اپنے والد بنگارپا کے اسمبلی حلقہ سورب میں اپنے بڑے بھائی کمار بنگارپا کو 2013کے اسمبلی انتخاب میں ہر ا کر جے ڈی ایس سے کامیابی حاصل کی۔ 2018کے اسمبلی انتخاب میں کمار بنگارپا نے مدھو کو ہرا دیا۔2019کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے امید وار بی وائی راگھویندرا نے مدھو بنگارپا کو شکست دی اس کے بعد سے مدھو نے جے ڈی ایس کی سرگرمیوں سے اپنے آپ کو دور کر لیا تھا اب وہ کانگریس میں شامل ہو چکے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ مانا جا رہا ہے کہ مدھو بنگارپا کی کانگریس میں شمولیت سے جے ڈی ایس کو شیموگہ میں زبردست دھکا پہنچا ہے جبکہ آنے والے دنوں میں کانگریس کو اس ضلع میں اپنی گرفت مضبوط کرنے میں کافی مدد ملے گی۔ ضلع میں مدھو بنگارپا کی کانگریس میں شمولیت او ر بھداروتی کے سابق رکن اسمبلی اپا جی گوڑا کی موت کے سبب اس ضلع میں جے ڈی ایس کا وجود اب اس قدر مضبوط نہیں رہا۔مدھو بنگارپا کے کانگریس میں شامل ہو جانے سے سورب اسمبلی حلقہ کا سیاسی منظر نامہ بدل سکتا ہے کیونکہ اب تک بنگارپا خاندان کے وہ وفادار جو خود کو بی جے پی اور جے ڈی ایس سے دور رکھے ہوئے تھے کھل کر مدھو بنگارپا کی حمایت میں سامنے آئیں گے۔